حکومت کےخاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی | عمران خان خصوصی تجزیہ

کراچی میں اتوار کو ہونے والے اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے قائدین نے تحریک انصاف کی حکومت کی مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اس سے نجات کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

پی ڈی ایم کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ’وہ اس نااہل حکومت کے خاتمے کے لیے جیل جانے کو بھی تیار ہیں اور سلیکٹرز کو اپوزیشن کے ساتھ ایک پیج پر آنا ہوگا۔ٗ

’آج پاکستان کے عوام اس قدر مایوس ہیں کہ وہ اسی حکومت کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں جسے عمران خان اور ان کی پارٹی نے چور کہا تھا۔‘

یاد رہے کہ حکومت مخالف تحریک کے سلسلے میں پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اپوزیشن جماعتوں کا گوجرانوالہ کے بعد یہ دوسرا مشترکہ جلسہ تھا۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے وزیراعظم عمران خان کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ گذشتہ روز اپنی تقریر میں اپنی شکست کا اعتراف کر رہے تھے۔ پی ڈی ایم کے ایک ہی جلسے سے ان کے اوسان خطا ہو گئے ہیں۔

’ہم جانتے ہیں آپ دباؤ میں ہیں، وزیراعظم کی کرسی کی ہی کوئی لاج رکھ لی ہوتی۔ آپ کے ایک ایک لفظ سے خوف جھلک رہا تھا۔ عوام کی طاقت کا خوف عمران خان کے چہرے پر واضح تھا۔‘

انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’بڑوں کی لڑائی میں بچوں کا کوئی کام نہیں ہے۔ نواز شریف تمہارا نام نہیں لے گا۔‘

’جعلی اور سلیکٹڈ ہونے کی تنخواہ پاکستانی قوم کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔‘

مریم نواز نے کہا کہ ’آپ لوگوں سے کہتے ہیں کہ گھبرانا نہیں اور خود ایک جلسے سے گھبرا گئے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میں عمران خان کا نام لینا پسند کرتی ہوں نہ انہیں وزیراعظم مانتی ہوں۔‘

’آج ہم سب پاکستان کے عوام کے لیے اکھٹے ہوئے ہیں، آج ہم پاکستان کا مقدمہ لڑنے آئے ہیں، لیکن انتخابی میدان میں ایک دوسرے کے حریف بھی ہوں گے۔ ہم انتخابی میدان میں لڑیں گے لیکن ایک دوسرے کے ساتھ نہیں لڑیں گے۔‘

وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ’سب جانتے ہیں کہ نیب پر عمران خان کا حکم چلتا ہے۔‘

’نہ صرف نیب عمران خان کے قبضے میں ہے بلکہ ایف آئی اے، ایف بی آر بھی ان کے قبضے میں ہیں۔‘

انہوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں آپ کے کارنامے گنواتی ہوں، معیشت پر خود کش حملہ آپ کا کارنامہ ہے، صنعتوں کو تباہ کرنا، معیشت کو تباہ کرنا، کاروبار تباہ کرنا آپ کا کارنامہ ہے۔‘

مریم نواز نے کہا کہ جب عمران خان سے جب کچھ پوچھا جائے تو وہ فوج کے پیچھے جا کے چھپ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ فوج تہماری فوج نہیں ہے، یہ فوج ہماری فوج ہے، یہ فوج نواز شریف کی فوج ہے۔‘

مریم نواز کا کہنا تھا کہ فوج میں جان قربان کرنے والوں اور آئین پر چلنے والوں کو ہم سلام کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے 5 ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 6 ایٹمی دھماکے کیے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف دو جنگوں کی قیادت کی۔ دنیا بھر میں برہان وانی کا مقدمہ لڑا۔

’آپ نے تو مودی کی کامیابی کے لیے دعائیں مانگیں، انڈیا کو سلامتی کونسل میں ووٹ دیا اور کلبھوشن کے لیے راتوں رات آرڈیننس لائے۔‘

مریم نواز نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن پر پابندی لگا دیں گے۔ مسلم لیگ ن پر پابندی کا کبھی سوچنا بھی نہ، یہ پاکستان مسلم لیگ ن ہے جو پاکستان کی سب سے بڑی جماعت ہے۔‘

’یہ جنرل پرویز مشرف کی بنائی گئی جماعت نہیں جس پر پابندی لگائی تو کوئی نہیں بولے گا۔ٗ

مریم نواز کا کہنا تھا کہ ‘مسلم لیگ ن پر پابندی لگائی گئی تو 22 کروڑ عوام پر بھی پابندی لگانا پڑے گی۔‘

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ‘ملک میں آج عوام کے حقوق کا تحفظ کرنے والے اداروں کو کھوکھلا کیا جا رہا ہے، عدلیہ پر دباؤ اور میڈیا پر تالا ہے۔‘

’حکمران اپنا کوئی بھی فرض پورا کرنے سے انکاری ہیں، ہم نے ملک میں عوام کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کی جنگ لڑنی ہے۔‘

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ’سندھ میں طوفان اٹھ رہا ہے، ہوش کرو، سندھ کے جزیروں پر قبضے کا آرڈیننس واپس لو۔‘

’یہ جزائر یہاں کے مچھیروں کے ہیں، ہم آپ کو ان جزائر پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔‘

’اگر یہ آرڈیننس واپس نہ لیا گیا تو ہم سینیٹ میں اس کے خلاف قرار داد منظور کریں گے۔‘

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’یہ عوام کے ووٹوں سے نہیں آئے، کسی اور کے ذریعے آئے ہیں۔ اس شخص کا غرور پاکستان کے عوام مٹی میں ملا دیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’آج بھی مخالف وہی طاقتیں ہیں جو غریب کا چولہا بند کرنا چاہتی ہیں، جو مخالف آوازیں بند کرنا چاہتی ہیں۔‘

’ہمیں آج پھر ان قوتوں کو شکست دینی ہے۔ ہمیں پارلیمان میں بھی لڑنا ہے، سڑکوں پر بھی لڑنا ہے اور جیلوں میں بھی۔‘

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں گرفتار کرنا ہے تو کر لو، عوام کو کیسے روکو گے؟ کس کس کو جیل میں ڈالو گے۔ کبھی سمندر بھی قید ہوا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ملک میں مثبت رپورٹنگ کے علاوہ ہر خبر پر پابندی ہے، سلیکٹڈ بولنے پر پابندی، ٹی وی، اخبار پر پابندی، یہاں تک کہ ٹک ٹاک پر بھی پابندی۔‘

’اس وزیراعظم کی حکومت کی تو بنیاد ہی نہیں ہے، یہ ڈھانچہ کھوکھلا ہے، اگر ہمیں جیلوں میں ڈالا جائے گا تو ہماری حق کی صدائیں جیلوں کی دیواریں ہلا دیں گی۔‘

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’یہ جنگ صرف پی ڈی ایم کی نہیں ہے، بلکہ مزدوروں، وکلا، لیڈی ہیلتھ ورکرز، ڈاکٹرز، طلبہ اور عوام کی ہے جنہوں نے کبھی غلامی قبول نہیں کی۔‘

جلسے کے آخر میں خطاب کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ‘موجودہ حکومت بدترین دھاندلی کے نتیجے میں برسر اقتدار آئی۔’

’ہمیں کٹھ پُتلی حکومت قبول نہیں، ہم اس کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لیے تیار نہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ 26 لاکھ نوجوانوں کی بے روزگاری پر ختم ہوا۔‘

’اٹھارہویں ترمیم پاس کر کے ہم نے صوبوں کو کسی حد تک صوبائی خود مختاری دی تھی۔ ہم ایسی کوئی ترمیم قبول نہیں کریں گے جس سے عوام کے حقوق میں کوئی کمی آئے۔‘

مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’کیا عمران خان نے تقسیمِ کشمیر کا فارمولا پیش نہیں کیا تھا؟ تم کشمیر کے سوداگر ہو، کشمیر فروش ہو۔’

’وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف جو مقدمہ قائم کیا گیا اس مقدمے سے انڈیا کو خوشی ہوئی۔‘

اس سے قبل جلسے سے جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما شاہ اویس نورانی، پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سرادر اختر مینگل، اے این پی کے امیر حیدر ہوتی، میاں افتخار حسین، نیشنل پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عبدالمالک اور جمعیت اہل حدیث کے سربراہ پروفیسر ساجد میر نے بھی خطاب کیا۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔’

پروفیسر ساجد میر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اپوزیشن اتحاد حکومت کی آٹا، چینی، پیٹرول، جمہوریت اور ووٹ چوری کے خلاف اور اس کو روکنے کے لیے میدان میں آیا ہے اور عوام کی مدد سے اپنی مقصد میں کامیاب ہوگا۔

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا کہ ’پی ڈی ایم کا قیام ملک میں حقیقی جمہوریت اور سول بالادستی کا آغاز ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ سیاسی کارکنوں کے خلاف سیاسی اختلافات کی بنیاد پر بے بنیاد مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا کہ ان کے صوبے کا مسئلہ گولی سے حل نہیں ہوگا بلکہ بات چیت کریں اور مذاکرات کا جو سلسلہ گذشتہ حکومت نے شروع کیا تھا وہ بحال کریں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ہمیں 70 برسوں سے غدار کہا جا رہا ہے، اس ملک میں فاطمہ جناح کو بھی غدار کہا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اپنے حقوق مانگتے ہیں اور انہیں ان کے حقوق دیے جائیں۔

اس سے قبل جلسے میں شرکت کے لیے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز، پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور دیگر رہنما اتوار کو کراچی پہنچے تھے۔

مریم نواز ایئرپورٹ سے ایک ریلی کی صورت میں مزار قائد پہنچیں اور فاتحہ خوانی کی جبکہ مولانا فضل الرحمان نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے نجی ہسپتال میں ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔

کراچی سے اردو نیوز کے نامہ نگار توصیف رضی ملک کے مطابق مزار قائد پر مریم نواز کی آمد کے موقع پر سخت بدنظمی دیکھنے میں آئی۔

مزار قائد کی انتظامیہ نے صرف مریم نواز کی 6 گاڑیوں کو اندر آنے کی اجازت دی تاہم ان کے ہمراہ آنے والے کارکن بھی زبردستی مزار قائد میں داخل ہوگئے۔

اس دوران باہر رہ جانے والے کارکن مزار قائد کے سکیورٹی گارڈز کے ساتھ بحث و تکرار کرتے رہے۔

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *