پی آئی اے کی القصیم کے لیے پروازوں کی تیاریاں

پاکستان کی قومی ایئر لائن (پی آئی اے) نے سعودی عرب کے شہر القصیم کے لیے پروازیں چلانے کی درخواست کر دی ہے۔

اس سلسلے میں پی آئی اے کے چیف آپریٹنگ آفیسر ایئر مارشل ارشد ملک نے پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی سے ملاقات کی۔

ملاقات میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے پر زور دیتے ہوئے سی ای او پی آئی اے ارشد ملک نے نواف بن سعید المالکی سے سعودی عرب کے شہر القصیم کے لیے پروازوں کی اجازت میں تعاون کی درخواست کی ہے۔

ترجمان پی آئی اے عبداللہ حفیظ نے پیر کو اردو نیوز کو بتایا کہ ‘پی آئی اے اگلے ماہ نومبر سے سعودی شہر القصیم کے لیے پروازوں کا آغاز کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے اور اس سلسلے میں باضابطہ درخواست بھی دے دی گئی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’سعودی حکام کی جانب سے اجازت کے بعد پی آئی اے نومبر سے القصیم کے لیے پروازوں کا آغاز کر دے گی تاہم پروازوں کی تعداد سعودی حکام کی اجازت سے مشروط ہے۔‘

القصیم کے لیے پروازوں میں پی آئی اے کیوں دلچسپی لے رہی ہے؟

پی آئی اے حکام نے سعودی عرب کے شہر القصیم کے لیے پروازیں چلانے کے لیے سعودی حکام کو باضابطہ طور پر درخواست دے رکھی ہے اور اس حوالے سے قومی ایئرلائن خاصی دلچسپی کا اظہار کر رہی ہے۔

پی آئی اے کی جانب سے القصیم کے لیے پروازیں چلانے کی مختلف وجوہات بتائی جا رہی ہیں جن میں سے ایک وجہ عمرہ زائرین کے لیے آسانیاں پیدا کرنا بتایا جا رہا ہے۔

پی آئی اے کی سالانہ آمدن کا ایک بڑا حصہ حج اور عمرہ سے حاصل کیا جاتا ہے۔

ترجمان پی آئی اے نے اردو نیوز کو بتایا کہ ‘پی آئی اے عمرہ یا حج کے لیے زیادہ تر جدہ ایئرپورٹ استعمال کرتی ہے جو کہ دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں سے ایک ہے۔

’حج اور عمرہ کے دنوں میں جدہ ایئرپورٹ پر رش مزید بڑھ جاتا ہے اس لیے قصیم ایئرپورٹ جدہ ائیر پورٹ سے نسبتاً کم رش والا ہوائی اڈا ہے جس میں زائرین کے لیے بھی آسانی ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’جدہ ایئرپورٹ کی طرف جاتے ہوئے پرواز میقات کی حدود سے گزرتی ہے جس کی وجہ سے دورانِ پرواز ہی احرام باندھ لیا جاتا ہے۔‘

‘القصیم کی پرواز میں دورانِ پرواز احرام باندھنے کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ یہ میقات کی حدود سے باہر ہے اور مکہ سے صرف ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر ہے۔‘

اس کے علاوہ جدہ ایئرپورٹ رش کے باعث مہنگا ایئرپورٹ بھی تصور کیا جاتا ہے۔

About admin

Check Also

اقامے کی مدت باقی ہے، کیا فیس واپس لی جا سکتی ہے؟

سعودی عرب میں وبائی مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ لاک ڈاؤن کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *