کفیل دوسری جگہ ٹرانسفر کے لیے انکار کرے تو کیا کریں؟

سعودی عرب میں وبائی مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد حالات معمول پر آنے لگے ہیں۔ وبائی مرض کے نئے کیسز مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ اسی تناظر میں بین الاقوامی پروازوں کی بحالی بھی مرحلہ وار جاری ہے۔

موجودہ صورتحال کے حوالے سے قارئین نے اپنی مشکلات اور مسائل سے متعلق مزید سوالات بھیجے ہیں۔ ان میں سے کچھ کے جوابات ذیل میں دیے جا رہے ہیں۔

غلام حسین کا سوال ہے کہ ایک کمپنی میں تی برس قبل نقل کفالہ کرایا تھا (کفالت کی تبدیلی ) جب کہ ملازمت کا معاہدہ دو برس کا تھا۔ اب تین برس مکمل ہو گئے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ دوسری جگہ ٹرانسفرکرا لوں مگر کمپنی والے نقل کفالہ نہیں دیتے حالانکہ پہلا ویزا ان کا نہیں تھا، کیا کروں؟

جواب۔ سعودی عرب میں قانون محنت کے مطابق آجر کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے کارکن کو کفالت کی تبدیلی کی اجازت دے یا نہیں تاہم اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ کارکن جس ویزے پر ہو وہ ویزا آجر کا ہی ہو جس پر کارکن مملکت آیا تھا۔ اس صورت میں آجر اپنے کارکن کی خدمات ختم ہونے کے بعد اسے دوسری جگہ کام کرنے کےلیے ریلیز یعنی کفالت کی تبدیلی کی اجازت دینے یا نہ دینے کا مجاز ہے۔

اگر کارکن کسی دوسرے کے ویزے پر مملکت آتا ہے (جیسا کہ آپ کے کیس میں ہے) اس صورت میں آجر کو یہ حق نہیں ہوتا کہ خدمات ختم ہونے کے بعد وہ کارکن کی رضامندی کے بغیر فائنل ایگزٹ یعنی خروج نہائی لگا دے تاہم اگر کوئی ایسی غیرقانونی خلاف ورزی ریکارڈ کی گئی ہو جس پر سزا کے طور پر کارکن کو فائنل ایگزٹ پر بھیجنا ہو تو اس کا اختیار آجر کو ہو گا تاہم اس کےلیے عدالتی فیصلہ ضروری ہو گا۔

جیسا کہ آپ نے کہا کہ آپ کا معاہدہ دو برس کا تھا اب تین سال ہو چکے ہیں اس صورت میں آپ کو چاہیے کہ یا تو فوری طور پر معاہدے کی تجدید کرائیں اگر نہیں کرانی تو اس صورت میں لیبر کورٹ سے رجوع کریں جس کے لیے آپ سفارتخانہ ریاض یا جدہ میں قونصلیٹ کے شعبہ ویلفیئر سے رجوع کرکے انہیں درخواست دے کر ان سے مدد طلب کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے خلاف کسی قسم کا مقدمہ نہیں اس صورت میں آپ کی کمپنی اس امر کی پابند ہو گی کہ وہ آپ کی مرضی کے بغیر آپ کو خروج نہائی پرنہ بھیجے۔ اگر آپ کفالت کی تبدیلی یعنی نقل کفالہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو وہ لینا آپ کا قانونی حق بنتا ہے۔

عرب نیوز کے ایک قاری نےاستفسار کیا ہے کہ خروج وعودہ پر گئے ہوئے شخص کے کفیل کی موت ہو گئی اب اس کی واپسی کس طرح ممکن ہو گی؟

جواب: سعودی عرب میں وراثت کے قانون میں کسی بھی سعودی شہری کی موت ہونے کی صورت میں اس کے ورثا کو عدالت میں پیش ہو کر اپنا ایک نمائندہ مقرر کرنا ہوتا ہے جسے تمام ورثا کی جانب سے محدود فیصلے کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے۔

قانونی وارث کے ذمہ متوفی شخص کے نام سے کاروباری معاملات کے علاوہ غیر ملکی کارکنوں کے معاملات کی نگرانی بھی ہوتی ہے جو کارکنوں کے اقاموں کی تجدید اور ان کے فائنل یا ری انٹری ویزوں کے اجرا وغیرہ کے امور نمٹاتا ہے۔

جہاں تک آپ کا سوال ہے کہ خروج وعودہ یعنی ایگزٹ ری انٹری پر گئے ہوئے شخص کے کفیل کا انتقال ہوگیا ہے تو واپسی کس طرح ہو گی؟ اس صورت میں اگر آپ کے خروج وعودہ کی مدت باقی ہے تو کوئی مشکل نہیں۔ آپ پہلی دستیاب فلائٹ کے ذریعے مملکت آسکتے ہیں بعدازاں کفیل کے ورثا سے مل کر اپنے باقی قانونی معاملات مکمل کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کا ویزا ختم ہو چکا ہے اس صورت میں جب تک آپ کے کفیل کا قانونی وارث یا نمائندہ آپ کا خروج وعودہ یا اقامے کی مدت میں توسیع نہیں کرائے گا واپسی مشکل ہو گی۔ اس صورت میں یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے کفیل کے نمائندے سے رابطہ کریں جو معاملات کو درست قانونی شکل دینے کا مجاز ہے۔

About admin

Check Also

اقامے کی مدت باقی ہے، کیا فیس واپس لی جا سکتی ہے؟

سعودی عرب میں وبائی مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ لاک ڈاؤن کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *