’اقامہ تجدید، فیس جمع کرا دینا کافی نہیں‘

سعودی عرب میں وبائی مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد حالات معمول پر آنے لگے ہیں۔ وبائی مرض کے نئے کیسز مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ اسی تناظر میں بین الاقوامی پروازوں کی بحالی بھی مرحلہ وار جاری ہے۔

موجودہ صورتحال کے حوالے سے قارئین نے اپنی مشکلات اور مسائل سے متعلق مزید سوالات بھیجے ہیں۔ ان میں سے کچھ کے جوابات ذیل میں دیے جا رہے ہیں۔

عبدالاحد کا سوال ہے کفیل کا کہنا ہے کہ اس نےاقامہ تجدید کی فیس جمع کرادی ہے مگر تاحال اقامہ تجدید کرانے کا میسیج نہیں آیا کیا کریں؟

جواب۔ محکمہ پاسپورٹ جوازات کی جانب سے اس حوالے سے دریافت کیا گیا جس پر جوازات کا کہنا تھا کہ اقامہ تجدید کےلیے لازمی ہے کہ کارکن کا کفیل اپنے سسٹم سے تجدید کی کارروائی مکمل کرائے، محض فیس ادا کردینے سے اقامہ تجدید کے مراحل مکمل نہیں ہوجاتے اس کے لیےلازمی ہے کہ کفیل اپنے’ابشر‘ یا ’مقیم ‘ سسٹم سے کارکن کے اقامہ تجدید کرانے کے آپشن کو استعمال کرکے تجدید کرانے کی کمانڈ دے تاکہ اقامہ تجدید کیا جاسکے۔

اقامہ تجدید کرانے کےلیے لازمی ہے کہ ابشر یا مقیم سسٹم پر موجود تمام مراحل مکمل کیے جائیں۔ محض اقامہ تجدید کی فیس ادا کرنے سے اقامہ کی مدت میں توسیع اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک محکمہ جوازات کو اس بارے میں کمانڈ نہ دی جائے۔

یاد رہے جب تک کارروائی مکمل نہیں ہوتی اقامہ تجدید کی فیس بھی جوازات کے اکاونٹ میں منتقل نہیں ہوتی۔ اگر فیس منتقل نہیں ہوگی تو اقامہ بھی تجدید نہیں ہو گا۔

بعض افراد اس غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں کہ اقامہ کی فیس ادا کردینے کے بعد تجدید از خود ہو جائے گی حالانکہ یہ درست نہیں جس کی وجہ سے سسٹم میں ان کے اقامے کی مدت ختم ہو جاتی ہے جس کے باعث انہیں جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔

عبداللہ کا سوال ورک ویزے کے حصول کے حوالے سے ہے وہ پوچھتے ہیں سعودی عرب کا ورک ویزا کس طرح حاصل کیا جاسکتا ہے۔ کیا دستاویزات یا اہلیت ہونی چاہئے؟

جواب۔ سعودی عرب میں ورک ویزا حاصل کرنے کے لیے سب سے اہم نکتہ پیشہ ورانہ اہلیت ہے ۔آپ جس شعبے میں اہلیت کے حامل ہیں۔ اسی شعبے کے لیے درخواست دیں تاکہ مستقبل میں دشواری نہ ہو۔

ویزے کے حصول کےلیے کسی مستند ریکروٹنگ ایجنسی سے رابطہ کریں جہاں سے آپ کو اپنی اہلیت کے مطابق کسی نہ کسی کمپنی کی کوئی ڈیمانڈ مل سکتی ہے جس کے بعد آپ وہاں درخواست جمع کرادیں۔

ایسے کارکن جن کی پیشہ ورانہ صلاحیت نہیں ہوتی وہ محض مزدور کے ویزے پر آنا چاہتے ہیں تو اس حوالے سے بھی قوانین میں تبدیلی کردی گئی ہے۔ اب پیشہ ور مزدور کی بھی کیٹگری بنا دی گئی ہے۔ یعنی تعمیراتی شعبےکا مزدور، بجلی کے شعبے کے کارکن ، صنعتی مزدور وغیرہ ۔

ایک اور کیٹگری بھی ہے جسے گھریلو ملازمین کہا جاتا ہے جس میں چوکیدار، باغبان، ڈرائیور، گھریلو ملازم وغیرہ ہوتے ہیں ان کےلیے کسی خاص پیشہ ور ٹریننگ کی ضرورت نہیں ہوتی۔

About admin

Check Also

اقامے کی مدت باقی ہے، کیا فیس واپس لی جا سکتی ہے؟

سعودی عرب میں وبائی مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ لاک ڈاؤن کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *