کیا ھروب والے سعودی عرب جا سکتے ہیں؟ | سعودی شاہی فرمان جاری کردیا گیا

سعودی عرب میں کورونا وائرس کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے بین الاقوامی سفرپر ایک ہفتے کے لیے عارضی پابندی عائد کی گئی تھی۔

عارضی پابندی کا مقصد برطانیہ سمیت یورپی ممالک میں کورونا کی نئی تبدیل ہونے والی شکل سے لوگوں کو محفوظ رکھنا ہے۔

مملکت میں رہائشی قوانین سے متعلق قارئین اردونیوز کی جانب سے مختلف موضوع پر سوالات ارسال کیے جاتے ہیں جن کے جواب حاضر ہیں۔

عبدالقدیر احمد: میرے پاسپورٹ کی مدت میں 28 دن باقی ہیں مجھے 15 دن کے لیے خروج وعودہ ویزہ مل سکتا ہے؟

جواب: محکمہ پاسپورٹ ’جوازات‘ کے قانون کے مطابق خروج وعودہ حاصل کرنے کے لیے لازمی ہے کہ پاسپورٹ کی مدت کم از کم 3 ماہ کی ہو۔ مقررہ مدت سے کم ہونے پر سسٹم خروج وعودہ کی کمانڈ کو قبول نہیں کرے گا۔

آپ کو چاہیے کہ پاسپورٹ کی تجدید کرائیں اس کے بعد خروج وعودہ ویزہ حاصل کریں۔ اگر آپ کو ایمرجنسی میں جانا ہے تو اس کے لیے سفارتخانے سے رجوع کریں جہاں وہ پاسپورٹ پر مینول طریقے سے 6 ماہ کی ایکسٹینشن دے دیں گے جس کے بعد آپ پاسپورٹ کی مدت میں ہونے والی توسیع کو جوازات کے سسٹم میں انٹر کرائیں گے تاکہ جوازات کے سسٹم میں وہ اپ ڈیٹ ہو جائے۔

سسٹم میں پاسپورٹ کی مدت میں توسیع ہونے کے بعد آپ خروج عودہ حاصل کر سکتے ہیں-

عدیل احمد: میں 3 ماہ کی چھٹی آیا تھا میری واپسی 24 دسمبر 2020 کو ہونا تھی مگر سعودی عرب میں بین الاقوامی پروازوں پر پابندی عائد ہو گئی ہے، خروج وعودہ کی مدت میں بھی 5 دن باقی ہیں معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا میرے خروج و عودہ میں توسیع ہو سکے گی، کمپنی والوں کو لکھا ہے وہاں سے کوئی جواب نہیں ملا، کیا کروں؟

جواب: برطانیہ اور یورپی ممالک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر اور وائرس میں ہونے والی تبدیلی کی وجہ سے عارضی طور پر ایک ہفتے کے لیے بین الاقوامی سفر پر پابندی عائد کردی گئی ہے جس کی وجہ سے تمام فضائی کمپنیوں کی فلائٹس بند کردی گئی ہیں۔

ایئر لائنز کی جانب سے بھی بک کیے جانے والے ٹکٹوں کی ری بکنگ پر کوئی فیس نہیں لی جا رہی۔

تاہم جہاں تک آپ کا مسئلہ ہے تو حکومت کی جانب سے یہ سہولت فراہم کی گئی ہے کہ آپ کی کمپنی یا کفیل اپنے ’ابشر‘ یا ’مقیم‘ اکاؤنٹ کے ذریعے مقررہ فیس ادا کرکے خروج وعودہ کی مدت میں توسیع کرانے کے اہل ہوں گے ۔ واضح رہے خروج وعودہ کی فیس ایک ماہ کے لیے سو ریال ہے اس کی ادائیگی کے بعد خروج عودہ کی مدت میں توسیع کرائی جا سکتی ہے۔ جیسے ہی فلائٹس کے بارے میں حکومتی سطح پر اعلان ہوگا ’اردونیوز‘ میں فوری طورپر اس کی خبر دی جائے گی۔

جلیل احمد: میں نے فائنل ایگزٹ حاصل کیا ہوا ہے جس کی آخری تاریخ 30 دسمبر ہے جبکہ پروازیں بند ہیں اس صورت میں کیا کرنا ہوگا؟

جواب ۔ خروج نہائی یعنی فائنل ایگزٹ لگائے جانے کے بعد 60 دن کی مدت ہوتی ہے اس دوران سفر کرنا ہوتا ہے مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد جرمانہ عائد کر دیا جاتا ہے۔

اس وقت کورونا کی وجہ سے ہنگامی حالت کے باعث تمام بین الاقوامی سفر پر پابندی عائد کی گئی ہے جس کی وجہ سے فضائی سروس بھی معطل ہیں-

سعودی سول ایوی ایشن کی جانب سے یک طرفہ فلائٹ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے جس سے آپ فوری طور پر مستفید ہوسکتے ہیں کیونکہ آپ کا خروج نہائی 30 دسمبر تک ہے آپ فوری طور پر سیٹ حاصل کرکے روانہ ہو جائیں۔

اگرآپ کا جانا ممکن نہ ہو سکے تو آپ کفیل سے فوری طور پر رابطہ کریں اور صورتحال اس کےعلم میں لانے کے بعد اپنا خروج نہائی ویزہ کینسل کرائیں- بعد ازاں جیسے ہی آپ کو سیٹ مل جائے خروج لگوا کر روانہ ہو جائیں-

 اہم خبر

ان غیر ملکیوں کے لیے جو کہ سعودی عرب میں رہتے ہیں جو اپنے ملک واپس جانا چاہتے ہیں جو پاکستان مکمل طور پر واپس آنا چاہتے ہیں تو وہ صرف اور صرف تین دن کے اندر اندر پاکستان واپس آ سکتے ہیں۔ اگر آپ کا ایکسپائر ہو چکا ہے کفیل چھٹی نہیں دے رہا یا کفیل کے ساتھ کوئی مسئلہ مسائل ہے آپ اپنے ملک پاکستان واپس آنا چاہتے ہیں تو آپ اس (0598746192) نمبر پر رابطہ کر کے صرف اور صرف تین دن کے اندر اندر اپنے ملک واپس جا سکتے ہیں ۔

مزید معلومات کے لئے آپ ہمارے یوٹیوب چینل پر اس ویڈیو کو دیکھ سکتے ہیں۔

آپ نے اپنا قیمتی وقت دیا اس کے لیے بہت زیادہ شکریہ یا اللہ حافظ!

ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کو ہماری یہ پوسٹ اچھی لگی ہوگی اگر آپ ہماری یہ پوسٹ اچھی لگی تو اس پوسٹ کو لائک کریں اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔ بہت شکریہ!

About admin

Check Also

اقامہ کی تجدید اور خروج وعودہ کے لیے فنگر پرنٹ کیوں ضروری؟

سعودی عرب میں ڈیجیٹل سروسز کے آغاز کے ساتھ ہی حکومت کی جانب سے فنگرپرنٹ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *