اب غیر ملکی کو 200 ریال اقامہ فیس ہر مہینے بعد دینی پڑے گی

سعودی عرب میں یکم جولائی سے غیر ملکیوں کے لیے 100 ریال ماہانہ اقامہ تجدید فیس نافذ کردی گئی ۔

غیر ملکی شخص کے زیر کفالت بچوں اور بیوی کے اقامہ کی بھی تجدید فیس دینا ہو گی ۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اگلے سال سے اقامہ تجدید کی ماہانہ فیس بڑھا کر 200 ریال کر دی جائے گی۔

فمیلی فیس کے بغیر اہل خانہ کا خروج نہائی لگ سکتا ہے؟

سعودی عرب میں قانون کے مطابق وہ غیرملکی کارکنان جو اپنی فیملیز کے ہمراہ مقیم ہیں ان پر ماہانہ بنیاد پر مخصوص فیس عائد ہے جس کی سالانہ ادائیگی کے بغیر اقامہ تجدید نہیں ہوتا۔
فیسوں کا اطلاق جولائی 2017 سے کیا گیا تھا جس میں ہر برس 100 ریال اضافہ کیا گیا۔

احمد ناصر: میرے یہاں بچے کی ولادت ہوئی ہے نومبر کے آخری ہفتے میں، معلوم یہ کرنا ہے کہ میرا اقامہ فروری 2021 تک ہے اس سے قبل میں اہلیہ اور بچے کو فائنل ایگزٹ پر بھیجنا چاہتا ہوں، نومولود کے خروج نہائی کے لیے کیا کروں؟

جواب: سعودی عرب کے قانون کے مطابق پیدا ہونے والے بچوں کو اقامے میں درج کرانا ضروری ہے جس کے لیے پہلے پاسپورٹ بنوایا جائے گا اس کے بعد اقامے میں درج کرانے کے لیے مقررہ فیس بھی جمع کرائیں جو کہ اس سال ماہانہ 400 ریال ہوتی ہے۔

فیس جمع کرانے کے بعد جب نومولود کا اقامہ جاری ہو جائے تو آپ ان کا فائنل ایگزٹ یعنی خروج نہائی لگا سکتے۔

یاد رہے سعودی عرب میں 2017 سے غیر ملکی فیملیز کے لیے ماہانہ فیس عائد کی گئی تھی جو پہلے سال 100 ریال، دوسرے برس 200 ، تیسرے 300 اور جولائی 2020 سے 400 ریال ماہانہ وصول کی جاتی ہے۔

ماہانہ فیس ادا کیے بغیر اقامہ تجدید نہیں کیا جاسکتا۔ قانون کے مطابق جو غیر ملکی اپنی فیملیز کے ساتھ مملکت میں مقیم ہیں ان کے لیے لازمی ہے کہ وہ مقررہ فیس ادا کریں۔

یہ بھی یاد رہے کہ اقامہ تجدید کیے بغیر نہ تو خروج عودہ لگ سکتا ہے اور نہ ہی فائنل ایگزٹ۔

احمد علی: میں گذشتہ تین برس سے ایک کمپنی میں کام کررہا ہوں، اب میں نے ایک دوسری کمپنی میں ٹرانسفر لیا ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا مجھے اقامہ کارڈ نیا بنوانا پڑے گا یا وہی کارڈ مدت ختم ہونے تک کارآمد ہوگا؟

جواب: مملکت میں غیرملکی کارکنوں کے لیے جاری کیے جانے والے اقامہ کارڈ کی مدت پانچ برس ہوتی ہے۔ تاہم اقامہ کی تجدید سالانہ بنیادوں پر کی جاتی ہے۔

تجدید کے بعد اقامہ کی مدت سسٹم میں اپ ڈیٹ ہو جاتی ہے جبکہ کارڈ کی مدت پانچ برس رہتی ہے۔

یہاں ایک امر کی وضاحت ضروری ہے وہ یہ کہ کارکنوں کے لیے اقامہ کارڈ کی مدت پانچ برس اس وقت تک درست ہوگی جب تک وہ اسی کفیل کے پاس کام کررہے ہیں۔

آپ نے کفیل سے ٹرانسفر لیا ہے اور آپکی کمپنی بھی تبدیل ہوگئی ہے اس لیے لازمی ہے کہ کارڈ بھی دوسرا پرنٹ کروائیں کیونکہ اقامہ کارڈ پر جو معلومات درج ہیں وہ سابقہ کمپنی کی ہیں اس لیے آپ کو فوری طور پر دوسرا کارڈ حاصل کرنا ہوگا۔

دوسرا اقامہ کارڈ پرنٹ کرانے کے لیے آپ کو کمپنی کے ایچ آر ڈیپارٹمنٹ سے رجوع کرنا ہوگا جہاں سے وہ آپ کو نیا کارڈ جاری کروا کر دیں گے۔

قانون کے مطابق غیر ملکی کارکن براہ راست اپنے اقامہ اور دیگر معاملے کے لیے جوازات کے دفتر نہیں جاسکتا اس کے لیے کفیل یا کمپنی کے نمائندے ہی کو اختیار ہے کہ وہ کارکن کا اقامہ کارڈ حاصل کرے۔

 اہم خبر ان غیر ملکیوں کے لیے جو کہ سعودی عرب میں رہتے ہیں جو اپنے ملک واپس جانا چاہتے ہیں جو پاکستان مکمل طور پر واپس آنا چاہتے ہیں تو وہ صرف اور صرف تین دن کے اندر اندر پاکستان واپس آ سکتے ہیں۔ اگر آپ کا ایکسپائر ہو چکا ہے کفیل چھٹی نہیں دے رہا یا کفیل کے ساتھ کوئی مسئلہ مسائل ہے آپ اپنے ملک پاکستان واپس آنا چاہتے ہیں تو آپ اس (0598746192) نمبر پر رابطہ کر کے صرف اور صرف تین دن کے اندر اندر اپنے ملک واپس جا سکتے ہیں ۔

مزید معلومات کے لئے آپ ہمارے یوٹیوب چینل پر اس ویڈیو کو دیکھ سکتے ہیں۔

آپ نے اپنا قیمتی وقت دیا اس کے لیے بہت زیادہ شکریہ یا اللہ حافظ!

ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کو ہماری یہ پوسٹ اچھی لگی ہوگی اگر آپ ہماری یہ پوسٹ اچھی لگی تو اس پوسٹ کو لائک کریں اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔ بہت شکریہ!

About admin

Check Also

اقامہ کی تجدید اور خروج وعودہ کے لیے فنگر پرنٹ کیوں ضروری؟

سعودی عرب میں ڈیجیٹل سروسز کے آغاز کے ساتھ ہی حکومت کی جانب سے فنگرپرنٹ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *