مملکت میں وزارت داخلہ اور محکمہ امن عامہ کب قائم ہوا؟

سعودی عرب میں یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ بانی مملکت شاہ عبدالعزیز کی حجاز آمد سے قبل مکہ، جدہ اور مدینہ منورہ کے علاوہ سعودی عرب کے کسی بھی شہر یا قصبے یا بستی میں پولیس نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔

اخبار 24 کے مطابق اس زمانے میں پولیس اہلکار تینوں شہروں کے حکمرانوں کے احکام نافذ کراتے تھے۔ ان شہروں کے پولیس اسٹیشنوں کے درمیان بھی کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں تھا۔ پولیس سٹیشن کا دائرہ اختیار اس شہر کی سرحدوں تک ہی محدود ہوا کرتا تھا۔

شاہ عبدالعزیزنے 1343ھ کے دوران حجاز آمد پر مکہ مکرمہ میں پولیس جنرل ڈائریکٹوریٹ قائم کیا۔ جسے انہوں نے حجاز میں نائب الملک کی ماتحتی میں دیا- مکہ کے پولیس جنرل ڈئریکٹوریٹ کو مقدس مقامات پرامن و امان قائم کرنے اور حاجیوں کی امن وسلامتی کو یقینی بنانے کی ذمہ داری تفویض کی۔

شاہ عبدالعزیز نے مکہ مکرمہ، جدہ اور مدینہ منورہ میں پولیس ادارے قائم کرکے انہیں امن و امان قائم کرنے اور بحال رکھنے کی ذمہ داریاں سپرد کیں۔

1346ھ میں شاہی فرمان جاری کرکے مملکت کے تمام پولیس اداروں کو مکہ مکرمہ کی سربراہی میں دیا گیا۔ پولیس اداروں کا نظام تیار کیا گیا۔ پولیس افسران و اہلکاروں کے فرائض و ذمہ داریاں متعین کی گئیں۔

پولیس جنرل ڈائریکٹوریٹ کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا اس کی متعدد شاخیں قام کی گئیں۔ اسے مملکت بھر میں امن و امان قائم کرنے کی ذمہ داریاں تفویض کی گئیں۔ اسی تناظر میں طائف، ریاض، الاحسا، ابہا، نجران، اور جیزان میں پولیس ادارے قائم کیے گئے۔

ابتدا میں فائر بریگیڈ، یتیموں کی نگہداشت، معذوروں کی پناہ گاہ، ٹریفک، پاسپورٹ، غیرملکیوں کے اقامہ جات اور غیرملکیوں کی نگرانی کے فرائض بھی پولیس انجام دیا کرتی تھی۔

بھلائی کی تلقین اور برائی سے ممانعت (الامر بالمعروف و نہی عن المنکر) کی ذمہ داری بھی پولیس ہی کی تھی۔

حجاز میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ادارے مکہ مکرمہ پولیس ڈائریکٹر اور دیگر شہروں میں ان کے پولیس ڈائریکٹر ان سے مربوط تھے۔

1350ھ میں پہلی بار سعودی عرب میں وزارت داخلہ قائم کی گئی اور امن عامہ کا کام اس کے حوالے ہوا۔

1369ھ میں شاہی فرمان جاری کرکے امن عامہ کا قانون جاری ہوا۔ اس کے تحت محکمہ امن عامہ، اس کے ادارے قائم ہوئے فرائض متعین ہوئے۔ کہہ سکتے ہیں کہ اس قانون کا اجرا مملکت میں امن عامہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا اہم مرحلہ تھا۔

محکمہ امن عامہ کو ملک میں امن و امان کے تحفظ، تمام علاقوں میں سیکیورٹی کوریج کی فراہمی، بیرون مملکت سعودی سفارتخانوں کے تحفظ، مقامات مقدسہ، مقامی شہریوں اور مقیم غیرملکیوں کے اثاثوں اور ان کی زندگی کی سلامتی کی ذمہ داری تفویض کی گئی۔

1347ھ سے آج تک امن عامہ کے 15 ڈائریکٹر تعینات ہوئے ہیں۔

ان میں مھدی المصلح، میجر جنرل علی جمیل، طلعت وفا، غالب توفیق، میجر جنرل سلیمان الجارد، لیفٹیننٹ احمد مصطفی یغمور، جنرل محمد التونسی، جنرل فایز العوفی، جنرل عبداللہ آل الشیخ، جنرل احمد بلال، لیفٹیننٹ اسعد الفریح، لیفٹیننٹ سعید القحطانی، لیفٹیننٹ عثمان المحرج، لیفٹنننٹ سعود ھلال اور جنرل خالد الحربی (جو اب تک اس عہدے پر برقرار ہیں) شامل ہیں۔

About admin

Check Also

ہنڈی کے کاروبار میں ملوث 23 غیرملکی گرفتار

سیکیورٹی اداروں نے 2021 کی پہلی سہ ماہی کے دوران منی لانڈرنگ میں ملوث 32 …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *