نئے قانون میں خروج و عودہ اور خروج نہائی کیسے نکلے گا؟

سعودی وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود نے ملازمت کے نئے قانون میں جہاں غیرملکی اجیروں کو کئی سہولتیں دی ہیں وہیں آجروں کے مفادات کا بھی قانونی تحفط کیا ہے۔

عکاظ اخبار کے مطابق وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود نے ملازمت کے نئے قانون کی گائیڈ بک میں بتایا ہے کہ ملازم کو یہ اختیار ہے کہ وہ اپنا خروج و عودہ (ایگزٹ ری انٹری) اپنے طور پر نکلوا سکتا ہے۔

تاہم اس ویزے سے آجر کو ممکنہ نقصانات سے بچانے کے لیے یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ غیرملکی ملازم کی ویزا درخواست پر دس روز کے اندر اعتراض ریکارڈ کراسکتا ہے تاہم مہلت ختم ہونے کے پانچ روز کے اندر غیرملکی کارکن خروج و عودہ ویزا نکلوا سکے گا اور وہ موثر ہوگا۔

وزارت افرادی قوت نے بتایا ہے کہ غیرملکی کارکن کو ملٹی پل ایگزٹ ری انٹری ویزا جاری کرانے کی اجازت نہیں ہے۔

وزارت کا کہنا ہے کہ ملازمت کا مصدقہ معاہدہ ختم ہونے پر بھی غیرملکی کارکن خروج و عودہ ویزا (ایگزٹ ری انٹری) نہیں نکلوا سکتا۔

آجر خروج و عودہ ویزا منسوخ نہیں کراسکتا جبکہ آجر بھی ملازمین کا خروج و عودہ نکلوا سکتا ہے۔

وزارت افرادی قوت کا کہنا ہے کہ اگر غیرملکی ملازم خروج و عودہ ویزے پر مملکت سے باہر جاکر ملازمت کی باقی ماندہ مدت پوری کرنے کے لیے مقررہ تاریخ تک سعودی عرب واپس نہ آیا تو ایسی صورت میں وہ ویزے میں توسیع نہیں کرسکتا۔ اس کا اختیار صرف آجر کو ہوگا۔

وزارت افرادی قوت نے فائنل ایگزٹ ویزے سے متعلق کہا کہ فائنل ایگزٹ آجر بھی نکلوا سکتا ہے اور اجیر بھی نکال سکتا ہے۔

آجر کو دس روز کی مہلت ہوگی اس دوران منفی ری ایکشن نہ دینے پر غیرملکی کارکن فائنل ایگزٹ جاری کراسکے گا۔ یہ ویزا اجرا کی تاریخ سے پندروہ روز کے لیے موثر ہوگا۔

وزارت افرادی قوت کا کہنا ہے کہ اگر غیرملکی کارکن ملازمت کے معاہدے کے دوران فائنل ایگزٹ پر چلا گیا تو ایسی صورت میں اسے ملازمت کے لیے سعودی عرب واپس آنے کی قطعا اجازت نہیں ہوگی۔

About admin

Check Also

اقامہ کی تجدید اور خروج وعودہ کے لیے فنگر پرنٹ کیوں ضروری؟

سعودی عرب میں ڈیجیٹل سروسز کے آغاز کے ساتھ ہی حکومت کی جانب سے فنگرپرنٹ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *