خروج وعودہ میں توسیع کے لیے فیس جمع کرانا کافی نہیں

سعودی عرب میں غیر ملکیوں کے لیے اقامہ اور رہائشی قوانین واضح ہیں جن پر عمل کرنا سب کے لیے لازمی ہے۔ آجر اور اجیر کے حوالے سے بھی قوانین موجود ہیں ان سے آگاہی ضروری ہے۔

ایک شخص نے دریافت کیا ہے کہ خروج نہائی پر جانا چاہتا ہوں جبکہ اقامہ ایکسپائرہے۔ اس صورت میں خروج نہائی کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے؟

جوازات کا کہنا تھا کہ خروج نہائی ویزے کے لیے اقامہ کارآمد ہونا لازمی ہے۔ اقامہ تجدید کرانے کے بعد ہی خروج نہائی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے اقامہ کی مدت میں اگر ایک ہفتہ بھی باقی ہو تو اس صورت میں خروج نہائی ویزا حاصل کیا جا سکتا ہے جس کے بعد 60 دن کا وقت ہوتا ہے اس دوران سفرکر سکتے ہیں۔

مقررہ مدت کے دوران سفر نہ کیا جائے تو اس صورت میں جرمانہ عائد ہوجاتا ہے جسے ادا کرکے اقامہ کی تجدید کرانے کے بعد ہی خروج وعودہ یا خروج نہائی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

جوازات سے ایک اور شخص نے دریافت کیا کہ فائیو سٹار ہوٹل میں ویٹر کے اقامہ پر ملازم تھا گزشتہ برس خروج وعودہ پرجا کر واپس نہ آ سکا اب عامل منزلی‘ کے دوسرے ویزے پر مملکت آ سکتا ہوں؟

جوازات کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق جو شخص خروج وعودہ ویزے پر جا کر مقررہ مدت کے دوران واپس نہ آئے اسے سسٹم میں خرج ولم یعد کی کیٹگری میں شامل کر دیاجاتا ہے جس کے بعد خلاف ورزی کا مرتکب آئندہ 3 برس تک مملکت نہیں آ سکتا۔

ایسے افراد صرف اپنے سابق کفیل کے ہی دوسرے ویزے پر مملکت آ سکتے ہیں۔

واضح رہے 14 مارچ 2021 سے مملکت میں نیا لیبر لا نافذ ہو چکا ہے جس میں معاہدہ ملازمت اہم ہو گا۔

اس قانون کے تحت اگر کوئی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خروج وعودہ پر جا کر واپس نہیں آتا اور خروج وعودہ کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے اسے مملکت میں دوسرے ورک ویزے پر نہیں بلایا جا سکتا۔

جوازات کا کہنا ہے کہ خروج وعودہ کی مدت میں توسیع کے لیے لازمی ہے کہ مقررہ فیس ادا کرنے کے بعد کارکن کی ذمہ دار کمپنی یا سپانسر اپنے ابشر یا مقیم اکاونٹ کے ذریعے درکار کارروائی مکمل کرے۔

ایک شخص نے خروج وعودہ ویزے کی مدت میں توسیع کے حوالے سے پوچھا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستان سے آنے والی پروازیں بند ہیں۔ خروج وعودہ کی مدت میں توسیع کے لیے بینک اکاونٹ سے فیس جمع کرانے کے باوجود ویزے کی مدت میں توسیع نہیں ہوئی؟

واضح رہے بعض افراد یہ سمجتھے ہیں کہ خروج وعودہ ویزے کی فیس جمع کرانے کے بعد از خود مدت میں توسیع ہو جائے گی۔ فیس ادا کرنے کے بعد سپانسر اپنے ابشر یا مقیم اکاونٹ سے خروج وعودہ کی مدت میں توسیع کی کارروائی جب تک مکمل نہیں کرے اس وقت تک ویزے کی مدت میں توسیع نہیں ہو سکتی۔

فیملی اقامہ والے جن کے اہل خانہ پاکستان گئے ہوئے ہیں اور موجودہ صورتحال کی وجہ سے نہیں آ سکتے ان کےسربراہ یعنی والد یا جو بھی ان کے کفیل ہیں وہ اپنے اہل خانہ کے خروج وعودہ کی مقررہ مدت کے لیے درکار فیس ادا کرنے کے بعد توسیع کےلیے ابشر اکاونٹ کے ذریعے تجدید کی کارروائی مکمل کرسکتے ہیں۔

توسیع ہونے کے بعد اس کا میسج موبائل پر ارسال کر دیا جاتا ہے۔

About admin

Check Also

اقامہ کی تجدید اور خروج وعودہ کے لیے فنگر پرنٹ کیوں ضروری؟

سعودی عرب میں ڈیجیٹل سروسز کے آغاز کے ساتھ ہی حکومت کی جانب سے فنگرپرنٹ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *