خروج نہائی نکلوایا مگر استعمال نہیں ہوا کیا سپانسر کی تبدیلی ممکن ہے؟

سعودی عرب میں غیر ملکیوں کے لیے اقامہ اور رہائشی قوانین واضح ہیں جن پرعمل کرنا سب کے لیے لازمی ہے۔ آجر اور اجیر کے حوالے سے بھی قوانین موجود ہیں ان سے آگاہی ضروری ہے۔

ایک شخص نے معلوم کیا ہےکہ خروج نہائی ویزا لگایا تھا مگر استعمال نہیں ہوسکا۔ اقامے کی مدت باقی ہے کیا اس صورت میں اسپانسر تبدیل کرسکتا ہوں؟

جوازات کی جانب سے کہا گیا خروج نہائی کی مدت ختم ہونے کا جرمانہ ایک ہزارریال ہے۔ جرمانہ ادا کرنے کے بعد سابق خروج نہائی کو کینسل کرانا ہو گا جس کے لیے بنیادی شرط اقامہ کی مدت کی ہے۔

واضح رہے محکمہ پاسپورٹ جوازات کے قانون کے مطابق خروج نہائی جاری کرانے کے بعد 60 دن کی مدت ہوتی ہے اگرمقررہ مدت میں سفر نہ کیاجائے تو جرمانہ عائد کیا جاتا ہے جسے ادا کرنے کے بعد ہی جوازات کے سسٹم میں خروج نہائی ویزا کینسل کیا جانا ممکن ہے۔

خروج نہائی کا جرمانہ ادا کرنے کے بعد ویزا کینسل کیاجائے۔ اگر اس دوران اقامہ کی مدت ایکسپائر ہوچکی ہے تو اسے بھی تجدید کرانا لازمی ہے۔

جرمانے کی ادائیگی اور اقامہ کی تجدید کے بعد جوازات کے سسٹم میں غیر ملکی کارکن کی فائل اوپن ہو جائے گی جس کے بعد اسپانسر کی تبدیلی ممکن ہو سکتی ہے۔

یاد رہے سعودی عرب میں 14 مارچ 2021 سے قانون محنت میں نئی تبدیلیاں کی گئی ہیں جس کے تحت مملکت میں کام کرنے والے غیر ملکی کارکنوں کے لیے ورک ایگریمنٹ اہم ہو گا۔

ملازمت کا معاہدہ سالانہ بنیاد پر کیاجاتا ہے جو کارکن کی پیشہ ورانہ صلاحیت کے مطابق ہوتا ہے۔ ایگرمنٹ کی بنیاد پر ہی اقامہ کی مدت میں توسیع کی جاتی ہے۔

ایک شخص نے استفسار کیا ہے تابع کے اقامہ پر رہنے والے جب فائنل ایگزٹ پر جاتے ہیں تو انہیں دوسرے نئے ویزے (ورک ویزے) پر آنے کےلیے کوئی رکاوٹ تو نہیں؟

واضح رہے کہ مملکت میں مقیم غیر ملکیوں کے زیر کفالت بچے جنہیں جوازات کی قانونی اصطلاح میں تابع کہا جاتا ہے۔

جوازات کا کہنا تھا کہ قانونی طورپر مملکت میں رہنے والے جو خروج نہائی پر جاتے ہیں اور ان کے خلاف کسی قسم کی کوئی قانونی خلاف ورزی درج نہیں ہوتی وہ دوسرے ویزے پر مملکت آسکتے ہیں۔

مملکت میں مقیم غیر ملکیوں کے بچے جو ان کی زیر کفالت ہوتے ہیں ان کا قانونی اسٹیٹس ورک ویزے پر رہنے والوں سے مختلف ہوتا ہے۔

تابعین (ڈیپینڈنٹ) کے اقامہ پررہنے والے مملکت میں کام کرنے کے اہل نہیں ہوتے اس لیے ان کا ورک پرمٹ بھی نہیں ہوتا۔

تاہم اس حوالے سے ایک اہم نکتہ ہے وہ یہ کہ اگر کسی غیر ملکی کے خلاف عدالتی کارروائی ہوئی ہو اور اسے عدالت کی جانب سے کسی قسم کی سزا دی گئی ہو جس میں اس کے مملکت میں دوبارہ داخلے پرپابندی عائد کی گئی ہو اس صورت میں ان کا دوبارہ مملکت آنا ممکن نہیں ہوتا۔

عدالتی حکم پر ایسے افراد کی جو کسی قسم کی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث رہے ہوں انکی فائل سیز کردی جاتی ہے۔

About admin

Check Also

اقامہ کی تجدید اور خروج وعودہ کے لیے فنگر پرنٹ کیوں ضروری؟

سعودی عرب میں ڈیجیٹل سروسز کے آغاز کے ساتھ ہی حکومت کی جانب سے فنگرپرنٹ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *