ریاض میں ورکرز کی رہائش گاہوں کا معائنہ

ورکرز ہاؤسنگ کمیٹی کا کہنا ہے کہ دارالحکومت میں 10 لاکھ 37 ہزار 237 ورکرز کے رہائشی مراکز کے تفتیشی دورے کیے گئے-

عاجل ویب سائٹ کے مطابق ریاض میونسپلٹی کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لیبرکیمپس کے قانون کے تحت مقررہ تفتیشی کمیٹی نے ریجن میں 22 ہزار کارکنوں کے رہائشی مراکز میں مندرجہ ذیل تین اہم خلاف ورزیاں ریکارڈ پر آئیں-

رہائشی مرکز بغیر پرمٹ کے غیرملکی ورکرز کو ٹھہرائے ہوئے ہے-

ایک کمرے میں گنجائش سے زیادہ ورکرز کو ٹھہرایا گیا ہے۔

رہائش کے لیے جتنا فی کس رقبہ مقرر ہے، اس کی پابندی نہیں کی جارہی ہے-

رہائشی مراکز میں واش رومز مناسب تعداد میں مہیا نہیں ہیں-

واضح رہے کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد وزارت افرادی قوت اورہاؤسنگ کمیٹی کی جانب سے لیبرکمپاونڈز اور کیمپس کے لیے ضوابط مقرر کیے گئے تھے۔

مقررہ ضوابط کے تحت غیر ملکی کارکنوں کے رہائشی کمپاونڈز کو ہوادار بنانے کے علاوہ کارکنوں کے کمروں میں مقررہ گنجائش کی پابندی کرنا بھی ضروری ہے۔

About admin

Check Also

سعودی عرب میں لیبر قوانین کی 1782 خلاف ورزیاں ریکارڈ

سعودی وزارت انسانی وسائل و سماجی ترقی نے 25 اور 31 مارچ کے درمیان ایک …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *